🌟 چلو اب ایسا کرتے ہیں – فیض احمد فیض کی لازوال شاعری
تعارف
اردو شاعری کی دنیا میں فیض احمد فیض ایک ایسا نام ہے جس نے محبت، جدوجہد اور انسان دوستی کو اپنے اشعار کا محور بنایا۔ ان کی شاعری صرف الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ زندگی کے گہرے تجربات اور اجتماعی دکھوں کی عکاسی ہے۔
فیض کی نظم “چلو اب ایسا کرتے ہیں” بھی اسی تسلسل کی ایک خوبصورت جھلک ہے۔ اس نظم میں شاعر ایک علامتی انداز میں محبت، ایثار، ہمدردی اور اجتماعی زندگی کا پیغام دیتا ہے۔

🌱 نظم کا مرکزی خیال
فیض اس نظم میں یہ پیغام دیتے ہیں کہ دنیا کی اصل دولت محبت، ہمدردی اور ایک دوسرے کا سہارا ہے۔ وہ ستاروں کو روشنی اور امید کی علامت بنا کر کہتے ہیں کہ آؤ ان نعمتوں کو بانٹ لیں۔ اس بانٹنے میں نہ صرف سکون ہے بلکہ انسانیت کی اصل پہچان بھی ہے۔
💡 نظم کے اہم اشعار اور معنی
✨ “چلو اب ایسا کرتے ہیں ستارے بانٹ لیتے ہیں”
یہ مصرعہ روشنی اور امید کے بٹوارے کی طرف اشارہ ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ خوشی اور امید صرف ایک کے پاس نہ رہے بلکہ سب میں تقسیم ہو۔
✨ “ضرورت کے مطابق ہم سہارے بانٹ لیتے ہیں”
یہاں سہارا بانٹنے کی بات ہے، یعنی زندگی کی مشکلات میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا۔
✨ “محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہے، منافع چھوڑ دیتے ہیں خسارے بانٹ لیتے ہیں”
یہ اشعار محبت کی بے لوثی کو ظاہر کرتے ہیں۔ محبت میں نفع نقصان کا حساب نہیں ہوتا بلکہ دکھ اور خوشیاں مل کر بانٹی جاتی ہیں۔
✨ “محبت کے علاوہ پاس اپنے کچھ نہیں اب تو، اسی دولت کو ہم قسمت کے مارے بانٹ لیتے ہیں”
یہاں شاعر کہتا ہے کہ دنیاوی دولت ختم ہو سکتی ہے لیکن محبت ہی وہ واحد سرمایہ ہے جو سب کے پاس ہے اور جسے بانٹنے سے یہ کم نہیں ہوتا۔
🔑 نظم کے موضوعات
- ایثار اور ہمدردی – فیض انسان کو دوسروں کا دکھ بانٹنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
- محبت کی بے غرضی – محبت میں نفع نقصان نہیں بلکہ قربانی اور احساس شامل ہے۔
- اجتماعی زندگی – شاعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔
- محبت کو اصل دولت سمجھنا – دنیا کی باقی سب دولت ختم ہو سکتی ہے لیکن محبت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
🌸 مزید اشعار فیض احمد فیض کے
💖 محبت اور جدوجہد
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
💖 امید کا پیغام
متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
💖 عشق اور انسانیت
ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
💖 تنہائی اور روشنی
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
🌟 نتیجہ
فیض احمد فیض کی نظم “چلو اب ایسا کرتے ہیں” اور ان کے دیگر اشعار ایک لازوال پیغام ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ محبت، ایثار، امید اور ہمدردی وہ دولت ہیں جو بانٹنے سے کم نہیں ہوتیں بلکہ بڑھتی ہیں۔
یہی سوچ ایک بہتر معاشرہ قائم کرنے کی بنیاد ہے اور انسان کو اصل انسانیت تک پہنچاتی ہے۔
✅ میٹا ڈسکرپشن (SEO):
فیض احمد فیض کی نظم “چلو اب ایسا کرتے ہیں” اور دیگر مشہور اشعار کا تجزیہ۔ محبت، ایثار اور امید پر مبنی یہ شاعری انسانیت کے لازوال پیغام کو بیان کرتی ہے۔

About Me
Asalamu Alaikum!My name is Asad Mehmood, the creator of AlHuldaQuotes.com — a humble platform dedicated to spreading wisdom, inspiration, and positivity through quotes, Islamic stories, and heart-touching poetry.
I’ve always believed that words have the power to heal, guide, and uplift the soul. Whether it’s a powerful Islamic reminder, a quote that speaks to your heart, or a verse of poetry that reflects your emotions — I created this space to share such words with you.
Here on AlHuldaQuotes, you’ll find:
💬 Beautiful Islamic Quotes
📝 Romantic & Emotional Poetry in Roman Urdu & Urdu
🕊️ Life Lessons and Motivational Sayings
This website is my way of contributing to a more thoughtful and connected world. I hope the content here brings light to your day, peace to your heart, and a smile to your face.
Stay connected, stay inspired.JazakAllah for visiting!


Al Huda
ایک بہترین پلیٹ فارم ہے یہاں کہ ایک ایک تحریر دل ہو چھو لینے والی ہوتی ہے❤️
Shukriya Walizain51