🌙 ظلم، یادیں اور اسیری — ایک دل کو چُھو لینے والی غزل 🌙

دل کو چھو لینے والی اردو غزل جس میں ظلم، یادیں اور اسیری جیسے گہرے جذبات کو شاعری کے انداز میں بیان کیا گیا ہے

دل پر اثر کرنے والے یہ اشعار ایک ایسی داستان سناتے ہیں جس میں ستم، یادیں، بے قراری اور وفا کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ اگر آپ نے کبھی کسی کو بے حد چاہا ہو یا درد میں وفا کی تلاش کی ہو تو یہ غزل ضرور آپ کو اپنی لگے گی۔

A solitary silhouette of a man in a jacket gazing at a lake during a peaceful sunset, creating a serene atmosphere.💔 مکمل غزل:

ظلم کر دے نہ تیرا مائلِ فریاد مجھے
اس قدر بھی نہ ستا او ستم ایجاد مجھے

رات پڑتی ہے تو آتا ہے کوئی یاد مجھے
تو نے رکھا نہ کہیں قابلِ ناشاد مجھے

جو خوشی آپ کی وہ میری خوشی، بسم اللہ
آپ کرتے ہیں تو کر دیجیے برباد مجھے

پوچھتے کیا ہو میرا حالِ پریشاں مجھ سے
ایسا کھویا ہوں کہ کچھ بھی نہ رہا یاد مجھے

میں قفس ہی سے گلستاں کا نظارہ کر لوں
اتنی رخصت نہیں دیتا میرا صیّاد مجھے

رکھ سکے ہاتھ بھلا کون کسی کے منہ پر
لوگ کہتے ہیں تیرا کُشتۂ بے داد مجھے

لینے دیجیے ابھی اس دل کو اسیری کے مزے
ابھی کیجیے نہ خمِ زلف سے آزاد مجھے

بھول جاؤں میں زمانے کو تیری چاہت میں
یاد تیری رہے، اللہ کرے یاد مجھے

اس کی یادوں سے نصیرؔ آج بھی دل ہے آباد
A woman sitting in distress while a man walks away outdoors, capturing emotion and separation. Beautiful sunset over ocean with a heart shape in the sand, perfect for romantic themes. بھول کر بھی نہ کیا جس نے کبھی یاد مجھے

3 thoughts on “🌙 ظلم، یادیں اور اسیری — ایک دل کو چُھو لینے والی غزل 🌙”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top